Page Nav

HIDE

تازہ ترین خبر:

latest

لوح وقلم

  سانحہ جعفر ایکسپریس بارے چند سوالات از۔۔۔۔۔۔۔۔    ظہیرالدین بابر       ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اعلی بلوچستان کی پریس کانفرن...

 

لوح وقلم

سانحہ جعفر ایکسپریس بارے چند سوالات

از۔۔۔۔۔۔۔۔   ظہیرالدین بابر  

 

 

ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اعلی بلوچستان کی پریس کانفرنس نے  بڑی حد تک  جعفرایکپسریس کے سانحے بارے اٹھنے والے سوالات کے جواب دے  دیئے ہیں تاہم کچھ پہلو یقینا ایسے ہیں جن پر ہماری حکومت کو پوری سنجیدگی کے ساتھ توجہ مبذول کرنا ہوگی ، مثلا یہ کہ گذشتہ سال نومبر میں کویٹہ ریلوے اسٹشین پر ہونے والا خودکش حملہ میں چھبیس افراد زندگی کی بازی ہار گے تھے ، ان شہدا میں قابل زکر تعداد ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں  سے تعلق رکھنے والے افراد کی  تھی ، یہاں یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ بی ایل اے کی دہشت گردی کی اس ہولناک کاروائی کے بعد آخر سیکورٹی کے ایسے کون سے انتظامات کیے گے جو اس بات کو یقینی بناتے کہ مستقبل میں بلوچستان کی سرزمین پر ہمارے قومی اداروں کے اہلکار اتنی بڑی تعداد میں شہید نہ ہوں ، بلاشبہ بلوچستان اور خبیر پختوانخواہ میں باقائدہ جنگ جاری ہے چنانچہ حالت جنگ کا بجا طور پر تقاضا ہے کہ دشمن کی ہر کاروائی سے یوں سبق سیکھا جائے کہ دوبارہ اسے گھاو لگانے کا موقعہ نہ ملے ، جعفر ایکسپریس کے مسافروں کے حوالے سے ایک یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ شہید ہونے والے افراد اور دہشت گردوں کے نرغنے سے بچائے جانے والے افراد ملا کر بھی وہ تعداد نہیں بنتی جتنی ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ٹکٹ جاری کیے گے  چنانچہ مذکورہ سانحہ کا اس پہلو سے بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ دہشت گرد کوئٹہ اسٹیشن سے ہی جعفر ایکسپریس  میں سوار ہوئے ہوں اور پھر اپنے دیگر ساتھیوں کی جانب سے ریلوے ٹریک پر دھماکہ کے بعد قتل عام میں شامل ہوگے ہوں ۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کی تصاویر اور ان سے متعلق تمام تفصیلات سے بھی قوم کو آگاہ کرنا چاہے تاکہ ان بھیانک چہروں سے نقاب اتر جائے جو معصوم اور نہتے شہریوں کے قتل عام میں کھلے عام  ملوث ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ  آج خبیر تا کراچی ہر درد دل رکھنے والا پاکستانی یہ خواہش کرنے میں حق بجانب ہے کہ کاش جعفر ایکسپریس کا سانحہ  ارض وطن کا آخری نوحہ ثابت ہو ،  

کوئی تبصرے نہیں