دہشت گردی کا خاتمہ سیاسی استحکام سے مشروط از۔۔ ظہیرالدین بابر قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ میں جس قوت وعزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کی...
دہشت
گردی کا خاتمہ سیاسی استحکام سے مشروط
از۔۔
ظہیرالدین بابر
قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ
میں جس قوت وعزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کی بات کی گی یقینا وہ قابل تحسین ہے ، یہاں سوال یہ ہے کہ آخر خبیرپختوانخواہ اور بلوچستان
میں کالعدم ٹی ٹی پی اور کالعدم بی ایل اے
کے حملوں کا جواب اندرونی سیاسی اتفاق رائے بغیر کیونکر دیا جاسکتا ہے ، پاکستان
تحریک انصاف سمیت قومی پرست جماعتوں کا قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں شریک
نہ ہونا بلاشبہ مذکورہ بیھٹک کو مثالی نہ
بنا سکا، ہونا تو یہ چاہے تھا کہ مذکورہ سیاسی قوتوں کو منا تے ہوئے مذکورہ اجلاس
کا حصہ بناکر دشمن کو اندرونی اتفاق واتحاد کا پیغام دیا جاتا مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا، یہ بات سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ
سیاسی استحکام ہی معاشی ترقی اور امن وامان میں بہتری کا ضامن ہوسکتا ہے ،ہم یوں
بھی کہہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی دراصل سیاسی عدم استحکام سے ہی طاقت حاصل کررہی ہے
، خبیر پختوانخواہ اور بلوچستان کے عوام کا دیگر شکایات کے ساتھ ایک بڑا شکوہ یہ
بھی ہے کہ انھیں ان کے جائز آئینی اور قانونی حقوق نہیں دئیے جارہے ، اس حوالے سے
اگر کوئی ماضی کا حوالہ دیتا ہے تو جان لینا
چاہے کہ گزرے ماہ وسال کے برعکس آج کا پاکستان مختلف حالات سے دوچار ہے، سوشل
میڈیا کی بدولت پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے اپنی آواز اٹھانے کا ہنر سیکھ رہے ہیں، سمجھ لینا چاہے کہ اگر ماضی کے فارمولے
آج بھی لاگو کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تو واضح کامیابی کے امکانات مخدوش ہی رہیں
گے ، آرمی چیف کا یہ کہنا بلاشبہ درست ہے کہ پاکستان کو ہارڈ اسٹیٹ بنانےکی ضرورت
ہے ، سپہ سالار نے یہ بھی ٹھیک کہا کہ ہم کب تک گورنس کے گیپ کو اپنے افواج اور
دیگر شہدا کے خون سے بھرتے رہیں گے ،،،
یقینا جنرل عاصم منیر کے
موقف سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر سوال یہ ہے کہ گورنس کے مسائل کیسے حل ہوں گے، اس
سوال کا سیدھا اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ جب قومی وصوبائی اسمبلیوں میں ایسے منتخب افراد کی اکثریت ہوں گی جو حقیقی معنوں میں عوامی احساسات کی ترجمانی کریں
تو چیلنجز حل ہونے میں ہرگز دیر نہیں لگے گی ، اس پس منظر میں وقت آگیا ہے کہ پورے
پاکستان میں بالعموم اور بلوچستان میں
بالخصوص پولیس کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا جائے ، دہشت گردی کے خلاف مسلح
افواج کا تواتر سے استمعال بلاشبہ بطور ریاست پاکستان کی مشکلات بڑھا رہا ہے ،
حالات واقعات گواہی دے رہے کہ دہشت گردی
کے خاتمہ کے لیے ہماری سپاہ کو فرنٹ لائن پر رکھنا درپیش صورت
حال میں ہرگز نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہا ،
کوئی تبصرے نہیں